دمشق، 22؍اگست(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)شام کے شمال میں الحسکہ کے محاذ پر گزشتہ رات اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ باخبر عسکری ذرائع کے مطابق کُردوں کی فورس پیپلز پروٹیکشن یونٹ YPGنے الحسکہ شہر سے شامی حکومت کی فورسز کو نکالنے کے لیے ایک بڑی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔گزشتہ نصف شب کو شروع ہونے والی یہ کارروائی روسی وساطت سے جانبین کے درمیان جنگ بندی کی خبروں کے بعد سامنے آئی ہے۔ تاہم شامی حکومت کے ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ جانبین کے بیچ طے پائے جانے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی کُردوں کی جانب سے کی گئی ہے۔عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے آغاز پر شہر کے وسط میں واقع سکیورٹی کمپلیکس میں موجود شامی حکومت کی فورسز پر زور دیا گیا کہ وہ کمپلیکس کا گھیراؤ شروع ہونے سے قبل خود کو حوالے کر دیں۔یہ نئی پیش رفت جانبین کے درمیان متعدد مقابلوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس دوران شامی حکومت کے طیاروں نے الحسکہ شہر میں کردوں کے ٹھکانوں پر بم باری کی جب کہ کرد فورسز کے یونٹوں نے بھی حکومت کے ٹھکانوں پر حملے کیے جن کے نتیجے میں شامی فورسز کے متعدد اہل کار ہلاک ہو گئے اور کئی کو قیدی بنا لیا گیا۔حالیہ لڑائیوں نے امریکا کو بھی مداخلت پر مجبور کر دیا اور اس نے شامی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ وہ شہر میں موجود امریکی عسکری ماہرین کو فضائی بم باری میں نشانہ بنانے سے گریز کرے۔دوسری جانب شامی اپوزیشن کی قیادت نے اعلان کیا ہے کہ اس کے سیکڑوں جنگجو ترکی کی سرحد پر واقع قصبے جرابلس کو داعش تنظیم کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے بڑی کارروائی شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔